#10033
نکاح و طلاق نکاح یونیکوڈ
20 October 2026
رخصتی سے پہلے شوہر کے انتقال کی صورت میں عدت کا حکم
سوال
مفتی صاحب! ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، لیکن نکاح کے بعد رخصتی قبل شوہر کا انتقال ہو گیا۔ دریافت یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا اس عورت پر عدّت واجب ہوگی یا نہیں؟
از: بشارت، پاکستان
الجواب
واضح رہے کہ عدت وفات نعمت نکاح ختم ہونے پر اظہارِ غم کی خاطر مشروع ہے ،جس میں
سب عورتیں برابر ہیں، لہذا جس عورت کا
شوہر رخصتی سے پہلے وفات ہو جائے تو اس
عورت پر بھی چار ماہ دس دن عدت گزارنا لازم ہے۔(واللہ اعلم)
حوالہ جات
- وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
- والعدة( للموت أربعة أشهر )بالاھلۃ لو في الغرۃ كما مر(وعشر )من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا )وطئت أو لا — ردالمحتار, ص باب العدۃ،3 /510، ایچ ـ ایم ـ
- وعدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشر — الھدایہ, ص 2 /275، دار احیاء التراث
- ولأنه يجب إظهاراً للتأسف على فوت نعمة النكاح — الھدایہ, ص 2 /278، دار احیاء التراث